بین الاقوامیعرب دنیا

ٹرمپ کا بڑا قدم کانگریس کی منظوری کے باوجود 5 ارب ڈالر کی غیر ملکی امداد منسوخ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ "پاکٹ ریسشن” نامی ایک شاذونادر استعمال ہونے والے طریقہ کار کے تحت 4.9 ارب ڈالر کی غیر ملکی امداد منسوخ کر رہے ہیں۔ یہ وہ فنڈز ہیں جو پہلے ہی کانگریس سے منظور ہو چکے تھے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ اخراجات ان کی "امریکہ فرسٹ” پالیسی سے میل نہیں کھاتے۔

رپورٹس کے مطابق اس تجویز میں 3.2 ارب ڈالر یو ایس ایڈ کے ترقیاتی منصوبوں سے، 393 ملین ڈالر اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی امن مشنز سے، 322 ملین ڈالر جمہوریت فنڈ سے اور 444 ملین ڈالر دیگر امن و ترقی کے منصوبوں سے کاٹنے کی تجویز شامل ہے۔

"پاکٹ ریسشن” 1977 کے بعد پہلی بار استعمال کیا جا رہا ہے، جب صدر جمی کارٹر نے اسے آزمایا تھا۔ اس طریقہ کار کے تحت صدر کانگریس کو فنڈز روکنے کی تجویز بھیج سکتا ہے اور اگر مقررہ وقت میں کانگریس فیصلہ نہ کرے تو یہ رقم خرچ نہیں ہو پاتی۔

ڈیموکریٹس نے اس اقدام کو "چوری” قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے، جبکہ ریپبلکن رہنماؤں نے بھی اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے۔ اس دوران 30 ستمبر کی آخری تاریخ قریب ہے جب حکومت کے پاس اخراجات کے لیے فنڈز ختم ہو جائیں گے اور شٹ ڈاؤن کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

ٹرمپ نے کانگریس کو خط میں کہا کہ یہ غیر ملکی امدادی پروگرام "جاگرو اور ہتھیار بند” ہیں اور ان کی پالیسی سے متصادم ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام سیاسی کشمکش کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button