تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

صرف چار ماہ میں تلنگانہ کا ریونیو خسارہ 12,564 کروڑ روپے تک پہنچ گیا

تلنگانہ حکومت اس مالی سال (2025-26) کے ابتدائی چار ماہ میں ہی شدید مالی بحران کا شکار ہوگئی ہے۔ کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ریاست نے بجٹ میں 2,738 کروڑ روپے ریونیو سرپلس کا اندازہ لگایا تھا، لیکن حقیقت میں 12,564 کروڑ روپے ریونیو خسارہ سامنے آیا ہے۔

اسی طرح ریاست نے 54,009 کروڑ روپے مالیاتی خسارے کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن صرف چار ماہ میں یہ خسارہ 24,669 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی پہلے چار ماہ میں خسارے کی شرح تقریباً ایک جیسی رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے اسکیم اخراجات اور قرضوں پر سود کی ادائیگی نے حکومت کی مالی حالت کو کمزور کردیا ہے۔ ریاست اپنی آمدنی بڑھانے کے بجائے قرضوں پر انحصار کررہی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں ہی حکومت نے 24,669 کروڑ روپے قرض لیا ہے، جبکہ ریونیو وصولی محض 50,700 کروڑ روپے رہی جو کہ ہدف کا صرف 21 فیصد ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جی ایس ٹی اور ایکسائز سے کچھ اضافہ ہوا ہے لیکن اسٹامپ ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی آمدنی میں کمی آئی ہے۔ حکومت نے سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 36,504 کروڑ روپے مختص کیے تھے لیکن خرچ صرف 5,990 کروڑ روپے (16.40 فیصد) ہوا، جو پچھلے سال سے کم ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آمدنی بڑھانے کے اقدامات مؤثر نہ ہوئے تو اگلے آٹھ ماہ میں ریاست کو بڑے مالی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button