سائنس
Viqar e Hind par paayen science ki taaza tareen khabrein Urdu mein — naye experiments, space missions, aur research ki duniya se har update.
چلی کے مشہور پہاڑ "سیرو پاچون” کی چوٹی پر بننے والی انقلابی "ویرا سی روبن آبزرویٹری” نے دنیا کے سب سے بڑے کیمرے سے لی گئی پہلی تصاویر 23 جون کو جاری کیں، جس پر دنیا بھر کے سائنسدانوں اور ماہرین فلکیات نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی اور دنیا بھر میں سینکڑوں مقامات پر جشن منایا گیا۔ یہ آبزرویٹری دس سال کی طویل محنت اور 810 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی، جس میں سائنسدانوں، انجینئروں اور معاون عملے نے بھرپور کردار ادا کیا۔ "یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سانتا کروز” کے محققین نے اس منصوبے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ روبن آبزرویٹری میں نصب "سیمونی سروی ٹیلی اسکوپ” کا کیمرہ دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل کیمرہ ہے، جس میں 3200 میگا پکسل کی زبردست صلاحیت ہے۔ یہ کیمرہ ایک چھوٹی گاڑی جتنا بڑا اور تقریباً دگنا…
مزید پڑھیں »ہندوستانی فضائیہ کے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا اکزیوم-4 مشن کے ذریعے خلا کا سفر کرنے جا رہے ہیں، جہاں وہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر سات سائنسی تجربات انجام دیں گے۔ معروف ماہر فلکیات پروفیسر آر سی کپور نے انہیں ایک "نہایت خاص خلا نورد” قرار دیا ہے۔ اکزیوم-4 مشن میں چار مختلف ممالک کے خلا نورد شامل ہیں: امریکہ، ہنگری، پولینڈ اور ہندوستان۔ اس مشن کی قیادت امریکی خلا نورد پیگی وِٹسن کر رہی ہیں، جو اس سے قبل بھی کئی مشنوں میں حصہ لے چکی ہیں۔ پروفیسر کپور کے مطابق شبھانشو شکلا کو خلائی سفر کی خاص تربیت ملی ہے، خاص طور پر بھارت کے گگنیان مشن کے تناظر میں۔ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی بھارتی خلا نورد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا حصہ بن رہا ہے، جو زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر کی بلندی پر واقع ہے اور 1998 سے خلائی تحقیق میں…
مزید پڑھیں »بھارت کے خلاباز شبھانشو شکلا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے لیے مقرر مشن "ایکزیوم مشن 4” کی تیاریوں کے تحت اپنے بین الاقوامی ساتھی خلابازوں کے ساتھ آخری قرنطینہ مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ مشن 8 جون کو امریکہ کے ناسا کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس کے ڈریگن خلائی جہاز کے ذریعے روانہ ہوگا۔ شبھانشو شکلا اس مشن میں پائلٹ کے فرائض انجام دیں گے اور وہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جانے والے پہلے بھارتی خلاباز بن جائیں گے۔ اس مشن کی کمان سابق ناسا خلاباز پیگی وِٹسن کے سپرد ہے، جو اب ایکزیوم اسپیس کی انسانی خلائی پروازوں کی ڈائریکٹر بھی ہیں۔ اس مشن میں دیگر دو خلاباز بھی شامل ہیں: پولینڈ سے سلاووژ اوزنانسکی اور ہنگری سے ٹیبور کاپو، جو اپنی پہلی خلائی پرواز پر روانہ ہو رہے ہیں۔ مشن سے قبل ایکزیوم اسپیس کے ملازمین نے ایک الوداعی تقریب کا اہتمام…
مزید پڑھیں »ہندوستان کے خلائی تحقیقی ادارے اسرو کے ادتیہ-ایل 1 مشن نے سورج کی ایک زبردست سرگرمی کو ریکارڈ کیا ہے، جس میں ایک شعلہ (فلیئر) اور پلازما کا زوردار اخراج دکھایا گیا۔ یہ نظارہ سولر الٹرا وائلٹ امیجنگ ٹیلی اسکوپ (SUIT) کے ذریعے قید کیا گیا۔ یہ واقعہ نیئر الٹرا وائلٹ روشنی میں ریکارڈ کیا گیا، جو پہلی بار اس دائرے میں ہوا، اور سورج کی سطح پر رونما ہونے والے دھماکہ خیز واقعات کو سمجھنے کے لیے ایک نئی راہ ہموار ہوئی۔ ابتدائی طور پر پلازما کا بلاب 300 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلا، لیکن فوراً 1500 کلومیٹر فی سیکنڈ تک پہنچ گیا، جو زمین کے گرد محض 30 سیکنڈ میں چکر لگانے کے برابر ہے۔ ویڈیو میں سورج کی روشنی کو کم کرکے یہ ڈرامائی منظر دکھایا گیا تاکہ پلازما کے اخراج کو نمایاں کیا جا سکے۔ سورج سے نکلنے والے یہ شعلے سورج کی مقناطیسی…
مزید پڑھیں »اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے اسٹارشپ سپر ہیوی راکٹ کے نویں ٹیسٹ سے قبل اسپیس ایکس کے ہیڈکوارٹر ’’اسٹار بیس‘‘ میں ایک اہم تقریر کریں گے، جس میں وہ مریخ پر انسانی آبادکاری کے منصوبے کی مکمل تفصیل پیش کریں گے۔ اس تجرباتی پرواز میں اسٹارشپ کی واپسی اور لینڈنگ نظام میں بہتری پر توجہ دی جائے گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ تجرباتی پرواز میں مرحلہ وار کامیابیاں حاصل ہوئی تھیں، جیسے کہ کامیاب اسٹیج جدائی اور کنٹرول کے ساتھ واپسی، لیکن دوبارہ داخلے کے دوران راکٹ ٹوٹ گیا تھا۔ ماہرین نے اب ہیٹ شیلڈ اور فلائٹ سافٹ ویئر میں اہم تبدیلیاں کی ہیں تاکہ اس بار راکٹ کو محفوظ طریقے سے پانی میں اتارا جا سکے۔ اسٹارشپ دنیا کا سب سے بڑا اور طاقتور راکٹ ہے، جس کی اونچائی تقریباً 400 فٹ ہے۔ یہ مکمل طور پر دوبارہ قابلِ استعمال…
مزید پڑھیں »یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) نے خبردار کیا ہے کہ زمین کے گرد مدار اب ایک خطرناک قبرستان کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں ہزاروں سیارچے، راکٹ کے ٹکڑے اور پرانے مشنوں کی باقیات جمع ہو چکی ہیں۔ ای ایس اے کی تازہ رپورٹ کے مطابق صرف سال 2024 میں 1,200 سے زائد خلائی اشیاء، جن میں پرانے سیارچے اور راکٹ کے مکمل حصے شامل ہیں، زمین کے ماحول میں دوبارہ داخل ہو چکے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ روزانہ اوسطاً تین سے زائد اشیاء زمین کی فضا میں داخل ہو رہی ہیں۔ حیدرآباد یونیورسٹی تنازعہ: پولیس مقدمات میں طلباء کو راحت یہ اضافہ دو اہم وجوہات کی بنا پر ہوا ہے: ایک طرف تجارتی سیارچوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور دوسری طرف سورج کی سرگرمی میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو نچلے زمینی مدار (لو ارتھ آربٹ) پر…
مزید پڑھیں »