علاقائی خبریںقومی

سات برس بعد مودی کا چین کا دورہ، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں اہم ملاقاتیں متوقع

چین کے شہر تیانجن میں وزیرِاعظم نریندر مودی ہفتے کے روز شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ گئے۔ یہ ان کا سات سال بعد پہلا دورۂ چین ہے۔

مودی جاپان کے دورے کے بعد براہِ راست چین پہنچے جہاں انہوں نے جاپان کے ساتھ ٹرانسپورٹ، خلائی تحقیق اور تجارت کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔ چین میں قیام کے دوران ان کی ملاقات صدر شی جن پنگ سے متوقع ہے جس میں بھارت اور چین کے اقتصادی تعلقات پر بات ہوگی اور تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

ایس سی او اجلاس میں شمولیت بھارت کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں امریکہ نے بھارت پر پچاس فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا ہے جس سے تجارتی تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اجلاس کے دوران مودی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سمیت دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔ کریملن کے مطابق پیوٹن اپنی دسمبر میں متوقع بھارت یاترا کے حوالے سے تیاریوں پر بات کریں گے۔

یہ دورہ 2020 کی گلوان جھڑپوں کے بعد پہلا موقع ہے جب بھارتی وزیرِاعظم چین گئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک نے تعلقات بحالی کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں اتراکھنڈ کے لیپولیکھ پاس، ہماچل پردیش کے شپکی لا پاس اور سکم کے ناتھو لا پاس کے ذریعے تجارت کی بحالی شامل ہے۔

مودی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان مستحکم اور دوستانہ تعلقات خطے اور دنیا کے امن و خوشحالی پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button