علاقائی خبریںقومی

مودی اور شی جین پینگ کی گفتگو، اقتصادی تعاون اور دیرپا تعلقات پر مرکوز

وزیرِاعظم نریندر مودی سات برس بعد چین کے شہر تیانجن پہنچ گئے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے بھی طے ہے، جسے دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

مودی اور شی کے درمیان مذاکرات میں دو بڑے نکات پر توجہ دی جائے گی: طویل المدتی استحکام اور معاشی تعاون۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ خطے میں امن اور اعتماد کے بغیر تعلقات کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ سرحدی کشیدگی کو کم کرنا بھی بات چیت کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

عالمی سطح پر تجارتی کشیدگی اور امریکی محصولات کی پالیسیوں نے معیشت کو غیر مستحکم کیا ہے۔ ایسے حالات میں بھارت اور چین جیسے بڑے ممالک کے درمیان تعاون نہ صرف باہمی تعلقات بلکہ عالمی معیشت کے لئے بھی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

دونوں ملک تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے، براہِ راست پروازیں بحال کرنے اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت اور چین کو عالمی معیشت کو مستحکم کرنے میں مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق یہ ملاقات نہ صرف سرحدی تنازعات میں کمی لا سکتی ہے بلکہ دونوں ملکوں کو بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کا موقع بھی دے گی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button