تعلیمتلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

جی ایس ٹی میں کٹوتی سے تلنگانہ کی آمدنی بری طرح متاثر ڈپٹی سی ایم بھٹی

تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ و وزیر خزانہ بھٹی وکرم ارکا نے کہا ہے کہ مالی سال 2024-25 میں جی ایس ٹی نظام کی وجہ سے ریاست کو 26 ہزار 930 کروڑ روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ دہلی میں منعقدہ "جی ایس ٹی ریٹ ریونیو ریشنلائزیشن” اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ اصلاحات سے ریاست کو مزید 7 ہزار کروڑ روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ریاست وی اے ٹی نظام میں رہتی تو آمدنی 69 ہزار 373 کروڑ تک پہنچتی، لیکن جی ایس ٹی کے تحت یہ صرف 42 ہزار 443 کروڑ رہی۔ بھٹی نے بتایا کہ ریاستی محصولات میں جی ایس ٹی کا حصہ 39 فیصد ہے، اس لیے اس میں کسی بھی کمی کا اثر مرکز کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ 80 فیصد سے زائد ریاستی آمدنی فلاحی اسکیموں پر خرچ ہوتی ہے، اور مزید کمی تلنگانہ کی مالی حالت کو کمزور کر دے گی۔ بھٹی نے زور دیا کہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں تبدیلی کے ساتھ ہی ریاستوں کے لیے مناسب معاوضہ نظام بھی بنایا جائے تاکہ ترقیاتی اور فلاحی پروگرام متاثر نہ ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جی ایس ٹی سے جی ایس ڈی پی کا تناسب بھی مسلسل گر رہا ہے، جو 2022-23 میں 3.07 فیصد تھا اور اب 2.58 فیصد پر آ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button